مال[1]
معنی
١ - دھن، دولت، نقدی، روپیہ پیسہ۔ "نیچے احاطے میں ایک اندھا کنواں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اسمگلر اپنا مال لا کر اس میں چھپا دیتے ہیں"۔ ( ١٩٩٠ء، چاندنی بیگم، ٤٧ ) ٢ - وہ چیز جو کسی کی ملکیت ہو اور جس پر دوسرے کو حق تصرف نہ ہو، ملکیت۔ "ہم اس مجموعے کو اپنا مال سمجھ کر ذہن میں رکھ سکتے ہیں"۔ ( ١٩٦٣ء، تجزیہ نفس، ١١٥ ) ٣ - مال گزاری، لگان، وہ محصول جو حکومت زمینداروں پر لگائے۔ "ہمارے یہاں، دیوانی، فوجداری اور مال کے سب قانون ہیں"۔ ( ١٩١٣ء، چھلاوہ، ٧ ) ٤ - جنس، چیز، شے۔ "مال دکھا کر مجھ سے اس کی قیمت لی اور چلا گیا، چند ہی لمحوں بعد فضا میں اک آوازہ گونجا، بھاگو! پولیس آ گئی ہے"۔ ( ١٩٧٥ء، نظمانے، ١٠٢ ) ٥ - حقیقت، ہستی، اصل۔ "اگر شہریار کے واسطے بہتری ہو تو میں جان لگا دوں، مال کیا مال ہے"۔ ( ١٩٠٢ء، طلسم نوخیز جمشیدی،۔ ٧٧٦:٢ ) ٦ - بیش قیمت شے، قیمتی چیز۔ دل سی شے اور اک نگہہ ناز کے عوض بکتا ہے مال چشم خریدار دیکھ کر ( ١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ٩٣ ) ٧ - مویشی، چوپایہ۔ "اس نے سفارش لکھنے والے کو فحش گالیاں دینی شروع کیں کہ مال (یعنی اسپ) موجود نہیں"۔ ( ١٩١١ء، روزنامچہ سیاحت، ١٥٠:١ ) ٨ - عمدہ اور لذیذ کھانا، اچھا کھانا، غذا۔ فاقہ کشوں کی فکر چھوڑ، خوب ڈنر اڑائے جا کھانے دے کھانے ہیں جو غم تو یونہی مال کھائے جا ( ١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ٦ ) ٩ - حسین شخص، خوبصورت عورت، حسین اور نو عمر نوچی۔ اچھے اچھے مال ہیں پیش نظر آئے ہوئے گورے گورے گال ہیں چاہت کو چمکائے ہوئے ( ١٨٨٩ء، لیل و نہار، ٤٤ ) ١٠ - اسباب، سامان۔ "اپنا تمام مال اسباب اس میں جھونک کر اپنی بہو بیٹیوں کو بلا کر کہا"۔ ( ١٩٣٩ء، افسانہ پدمنی۔ ١٢٤ ) ١١ - غلہ، اجناس۔ "جس شہر میں مینہ نہ برسا اور کال ہوا، اسی وقت اور شہروں سے جہاں غلہ سستا ہے مال بھر لائے"۔ ( ١٨٦٤ء، نصیحت کا کرن پھول، ٧٣ ) ١٢ - سوداگری کی چیزیں، اشیائے تجارت۔ "دکانداروں اور آنے والیوں کے باہمی برتاؤ اور ان کی حالت اور مال وغیرہ کو دیکھ کے کو شک میں واپس آئی"۔ ( ١٩٢٥ء، مینا بازار، شرر، ٦١ ) ١٣ - [ ریاضی ] کسی عدد کو فی نفسہ ضرب دینے سے جو حاصل ضرب ہوتا ہے، جیسے 16 کا عدد 4 کا مال ہے۔ دیکھو بحث معادلات کا حال حل کیے مالِ کعب و کعب المال ( ١٨٨٧ء، ساقی نامہ شقشقیہ، ٣٥ ) ١٤ - دفینہ۔ جس طرح سے رہے ہے مال کے اوپر کالا یوں رہے زلف تیرے منہ کے اوپر مار کے پیچ ( ١٨٠١ء، گلشن ہند (مضمون)، ١٦١ ) ١٥ - کسی چیز کے بنانے کا مسالہ یا ضروری سامان۔ "اس میں کچھ اور مال بھی لگتا ہے جو منڈی میں کم یاب ہے"۔ ( ١٩٩٣ء، ماہنامہ افکار، کراچی، دسمبر، ٢٠ ) ١٦ - پیداوار، زراعت ١٧ - دانے دار نیل کی گاد جو پانی خشک ہونے کے بعد رہ جاتی ہے۔ ١٨ - ڈاک کی تھیلی یا بیگ۔ ١٩ - لاٹری کا انعام، وہ چیز جس پر چٹھی پڑے۔ ٢٠ - نیل جو بکتا ہے۔
اشتقاق
عربی زبان سے اسم جامد ہے۔ اردو میں ١٥٠٣ء کو "نوسر ہار" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - دھن، دولت، نقدی، روپیہ پیسہ۔ "نیچے احاطے میں ایک اندھا کنواں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اسمگلر اپنا مال لا کر اس میں چھپا دیتے ہیں"۔ ( ١٩٩٠ء، چاندنی بیگم، ٤٧ ) ٢ - وہ چیز جو کسی کی ملکیت ہو اور جس پر دوسرے کو حق تصرف نہ ہو، ملکیت۔ "ہم اس مجموعے کو اپنا مال سمجھ کر ذہن میں رکھ سکتے ہیں"۔ ( ١٩٦٣ء، تجزیہ نفس، ١١٥ ) ٣ - مال گزاری، لگان، وہ محصول جو حکومت زمینداروں پر لگائے۔ "ہمارے یہاں، دیوانی، فوجداری اور مال کے سب قانون ہیں"۔ ( ١٩١٣ء، چھلاوہ، ٧ ) ٤ - جنس، چیز، شے۔ "مال دکھا کر مجھ سے اس کی قیمت لی اور چلا گیا، چند ہی لمحوں بعد فضا میں اک آوازہ گونجا، بھاگو! پولیس آ گئی ہے"۔ ( ١٩٧٥ء، نظمانے، ١٠٢ ) ٥ - حقیقت، ہستی، اصل۔ "اگر شہریار کے واسطے بہتری ہو تو میں جان لگا دوں، مال کیا مال ہے"۔ ( ١٩٠٢ء، طلسم نوخیز جمشیدی،۔ ٧٧٦:٢ ) ٧ - مویشی، چوپایہ۔ "اس نے سفارش لکھنے والے کو فحش گالیاں دینی شروع کیں کہ مال (یعنی اسپ) موجود نہیں"۔ ( ١٩١١ء، روزنامچہ سیاحت، ١٥٠:١ ) ١٠ - اسباب، سامان۔ "اپنا تمام مال اسباب اس میں جھونک کر اپنی بہو بیٹیوں کو بلا کر کہا"۔ ( ١٩٣٩ء، افسانہ پدمنی۔ ١٢٤ ) ١١ - غلہ، اجناس۔ "جس شہر میں مینہ نہ برسا اور کال ہوا، اسی وقت اور شہروں سے جہاں غلہ سستا ہے مال بھر لائے"۔ ( ١٨٦٤ء، نصیحت کا کرن پھول، ٧٣ ) ١٢ - سوداگری کی چیزیں، اشیائے تجارت۔ "دکانداروں اور آنے والیوں کے باہمی برتاؤ اور ان کی حالت اور مال وغیرہ کو دیکھ کے کو شک میں واپس آئی"۔ ( ١٩٢٥ء، مینا بازار، شرر، ٦١ ) ١٥ - کسی چیز کے بنانے کا مسالہ یا ضروری سامان۔ "اس میں کچھ اور مال بھی لگتا ہے جو منڈی میں کم یاب ہے"۔ ( ١٩٩٣ء، ماہنامہ افکار، کراچی، دسمبر، ٢٠ )